نماز کے ارکان، واجبات، اور سنتیں قران و حدیث کی روشنیمیں


نماز کے ارکان، واجبات، اور سنتیں

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله، أما بعد:


نماز کی متعدد سنتیں ہیں، جن میں سے کچھ قولی [زبانی]ہیں، اور کچھ فعلی ہیں۔


نماز میں سنتوں سے مراد: ہر وہ کام ہے جو رکن یا واجب نہیں ہے۔


چنانچہ کچھ فقہائے کرام نے نماز کی قولی سنتوں کی تعداد سترہ (17) اور فعلی سنتوں کی تعداد پچپن (55) بتلائی ہے۔


نماز کسی بھی سنت کے ترک کرنے سے باطل نہیں ہوتی، چاہے جان بوجھ کر ترک کرے، جبکہ ارکان اور واجبات کا معاملہ ایسا نہیں ہے۔


*رکن اور واجب میں فرق یہ ہے کہ : رکن عمداً یا بھول جانے سے بھی ساقط نہیں ہوگا، بلکہ اسے ادا کرنا ضروری ہے۔


*جبکہ واجب بھول جانے سے ساقط ہوجاتا ہے، اور سجدہ سہو کے ذریعے اس کمی کو پورا کیا جاسکتا ہے۔


یہاں یہ بات بھی مناسب ہے کہ ہم نماز کے ارکان، اور واجبات ذکر کریں، اور اسکے بعد کچھ سنتیں بیان کریں، جس کیلئے ہم "دلیل الطالب" کتاب پر اعتماد کرینگے:


اول: نماز کے ارکان، چودہ ہیں، جو کہ مندرجہ ذیل ہیں:


1- فرض نماز کے دوران قیام کی استطاعت رکھنے والے پر قیام کرنا۔


2- تکبیرِ تحریمہ یعنی "اللہ اکبر "کہنا۔


3- سورہ فاتحہ کی تلاوت کرنا۔


4- رکوع کرنا، رکوع کی کم از کم حالت یہ ہے کہ جھک کر اپنے گھٹنوں کو ہاتھ لگائے، اور کامل رکوع یہ ہے کہ جھکتے ہوئے کمر کو سر کے برابر سیدھی کرے۔


5- رکوع سے اٹھنا۔


6- رکوع سے اٹھ کر سیدھے کھڑے ہونا۔


7- سجدہ کرنا، کامل ترین سجدہ یہ ہے کہ پیشانی، ناک، دونوں ہتھیلیاں، دونوں گھٹنے، اور دونوں قدموں کی انگلیوں کے کنارے سجدہ کی جگہ پر اچھی طرح رکھے جائیں، اور کم از کم سجدہ یہ ہے کہ ہر عضو کا کچھ نہ کچھ حصہ زمین پر ضرور رکھا جائے۔


8- سجدہ اٹھنا۔


9- دو سجدوں کے درمیان بیٹھنا، جیسے بھی بیٹھے کفایت تو کر جائے گا، لیکن اس کیلئے سنت یہ ہے کہ اپنا بایاں پاؤں بچھا کر اسکے اوپر بیٹھے، اور دائیں پاؤں کو کھڑا کرکے قبلہ رخ کرے۔


10- پوری نماز میں اطمینان ، یعنی ہر فعلی رکن کو سکون کیساتھ ادا کرنا۔


11- آخری تشہد پڑھنا۔


12- تشہد اور دونوں طرف سلام کیلئے بیٹھنا۔


13- دونوں طرف سلام پھیرنا، سلام سے مراد یہ ہے کہ دو بار "السلام علیکم ورحمۃ اللہ" کہنا، نفل اور نمازِ جنازہ میں ایک سلام بھی کفایت کرجائے گا۔


14- مذکورہ بالا ارکان میں ترتیب کا خیال کرنا، جیسے کہ اوپر بیان ہوئی ہیں، چنانچہ اگر کوئی رکوع سے قبل جان بوجھ کر سجدہ کر لے تو نماز باطل ہوجائے گی، اور اگر بھول کر سجدہ کر لے تو واپس جا کر پہلے رکوع کرے، اور بعد میں سجدہ کریگا۔


دوم:


نماز کے آٹھ واجبات ہیں، جوکہ مندرجہ ذیل ہیں:


1- تکبیر تحریمہ کے علاوہ دیگر تکبیرات۔


2- امام اور منفرد کا " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " کہنا۔


3- " رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ " کہنا۔


4- رکوع میں ایک بار " سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيْم " کہنا۔


5- سجدہ میں ایک بار " سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى" کہنا۔


6- دو سجدوں کے درمیان " رَبِّ اغْفِرْ لِيْ" کہنا۔


7- پہلا تشہد پڑھنا ۔


8- پہلا تشہد بیٹھنا ۔


سوم:


نماز کی زبان سے ادا ہونے والی سنتیں گیارہ ہیں، جو کہ مندرجہ ذیل ہیں:


1- تکبیرِ تحریمہ کے بعد دعائے استفتاح پڑھنا: " سُبْحَانَكَ الَّلهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ ، وَتَعَالَى جَدُّكَ ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ "


2- تعوذ پڑھنا۔


3- بسم اللہ پڑھنا۔


4- آمین کہنا۔


5- سورہ فاتحہ کے بعد کوئی بھی سورت پڑھنا۔


6- امام کا جہری نمازوں میں بلند آواز سے قراءت کرنا۔


7- مقتدی کے علاوہ دیگر [یعنی :امام اور منفرد]نمازیوں کا " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " کے بعد: " مِلْءَ السَّمَاوَاتِ ، وَمِلْءَ الْأَرْضِ ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ " کہنا، (ان الفاظ کے کہنے کے بارے میں صحیح موقف یہی ہے کہ مقتدی کیلئے بھی سنت ہے)


8- رکوع کی ایک سے زائد تسبیحات، یعنی دوسری ، تیسری اور اسکے بعد والی تسبیحات سنت ہیں۔


9- سجدے کی ایک سے زائد تسبیحات۔


10- دو سجدوں کے درمیان ایک سے زائد بار " رَبِّ اغْفِرْ لِيْ"پڑھنا۔


11- آخری تشہد میں آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر درود ، اور برکت کی دعا کرنا، اور اسکے بعد دعا مانگنا۔


چہارم:


فعلی سنتیں، جنہیں کیفیات بھی کہا جاتا ہے۔


1- تکبیرِ تحریمہ کیساتھ رفع الیدین کرنا۔


2- رکوع میں جاتے وقت رفع الیدین کرنا۔


3- رکوع سے اٹھنے وقت رفع الیدین کرنا۔


4- رفع الیدین کرنے کے بعد دونوں ہاتھوں کو چھوڑنا۔


5- دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کے اوپر رکھنا۔


6- اپنی نظریں سجدہ کی جگہ رکھنا۔


7- قیام کی حالت میں دونوں قدموں کے درمیان مناسب فاصلہ رکھنا۔


8- رکوع کی حالت میں ہاتھوں کی انگلیاں کھول کر گھٹنے کو پکڑنا، اور کمر کو سیدھا کرتے ہوئے سر کو کمر کے برابر رکھنا۔


9- اعضائے سجدہ کو براہِ راست زمین پر لگانا، اور سجدہ کی جگہ کو چھونا، گھٹنوں کو براہِ راست زمین پر لگانا مکروہ ہے۔ [براہِ راست لگانے سے مراد یہ ہے کہ درمیان میں کپڑا بھی حائل نہ ہو، اسی لئے گھٹنے کو ننگا کرنا مکروہ کہا گیا ہے۔ مترجم]


10- [سجدہ کی حالت میں] بازؤوں کو پہلؤوں سے ، پیٹ کو ران سے، ران کو پنڈلیوں سے، اور دونوں گھٹنوں میں فاصلہ رکھنا، دونوں قدموں کو کھڑا رکھنا، دونوں قدموں کی انگلیوں کے اندرونی حصہ کو زمین پر لگانا، دونوں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر انگلیاں ملا کر رکھنا۔


11- دونوں سجدوں کے درمیان ، اور پہلے تشہد میں بایاں پاؤں بچھا کر اس کے اوپر بیٹھنا، اور دوسرے تشہد میں تورّک [بایاں پاؤں دائیں پاؤں کے نیچے سے آگے نکال کر بیٹھنا] ۔


12- دوسجدوں کے درمیاں بیٹھتے ہوئے اپنی ہتھیلیوں کو ران پر انگلیاں ملا کر رکھنا، اسی طرح تشہد میں بھی، جبکہ تشہد میں دائیں ہاتھ کی چھنگلی، اور چوتھی انگلی کو بند کرکے، درمیانی انگلی اور انگوٹھے کے ذریعے حلقہ بنائے، اور شہادت والی انگلی سے ذکرِ الہی کے وقت اشارہ کرے۔


13- سلام پھیرتے ہوئے دائیں بائیں منہ پھیرنا۔


بعض اشیاء میں فقہائے کرام کے ہاں اختلاف بھی پایا جاسکتا ہے، چنانچہ بسا اوقات کسی کے ہاں کوئی عمل واجب ہے تو دیگر فقہائے کرام کے ہاں وہ عمل مسنون بھی ہوسکتا ہے، ان باتوں کی مکمل تفصیلات فقہی کتب میں موجود ہیں۔


واللہ اعلم .

 


أركان الصلاة وواجباتها وسننها

سؤال :ما هي سنن الصلاة ؟.

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

الجواب :

الحمد لله


سنن الصلاة كثيرة ، منها القولية ، ومنها الفعلية . والمقصود بالسنن : ما عدا الأركان والواجبات .


وقد أوصل بعض الفقهاء السنن القولية إلى سبع عشرة سنة ، والسنن الفعلية إلى خمس وخمسين سنة . ولا تبطل الصلاة بترك شئ من السنن ، ولو عمدا . بخلاف الأركان والواجبات .


والفرق بين الركن والواجب : أن الركن لا يسقط عمدا ولا سهوا ، بل لابد من الإتيان به .


أما الواجب : فيسقط بالنسيان ، ويجبر بسجود السهو .


ولعل من المناسب هنا أن نذكر أركان الصلاة وواجباتها ، ثم شيئاً من سننها ، معتمدين في ذلك على ما في متن "دليل الطالب" وهو مختصر مشهور عند فقهاء :



أولا : أركان الصلاة ، وهي أربعة عشر ركناً ، كما يلي :


1- أحدها القيام في الفرض على القادر .


2- تكبيرة الإحرام وهي الله أكبر .


3- قراءة الفاتحة .


4- الركوع ، وأقله أن ينحني بحيث يمكنه مس ركبتيه بكفيه ، وأكمله أن يمد ظهره مستويا ويجعل رأسه حياله .


5- الرفع منه .


6- الاعتدال قائما .


7- السجود ، وأكمله تمكين جبهته وأنفه وكفيه وركبتيه وأطراف أصابع قدميه من محل سجوده . وأقله وضع جزء من كل عضو .


8- الرفع من السجود .


9- الجلوس بين السجدتين . وكيف جلس كفى ، والسنة أن يجلس مفترشا على رجله اليسرى وينصب اليمنى ويوجهها إلى القبلة .


10- الطمأنينة وهي السكون في كل ركن فعلي .


11- التشهد الأخير .


12- الجلوس له وللتسليمتين .


13- التسليمتان ، وهو أن يقول مرتين : السلام عليكم ورحمة الله ، ويكفي في النفل تسليمة واحدة ، وكذا في الجنازة .


14- ترتيب الأركان كما ذكرنا ، فلو سجد مثلا قبل ركوعه عمدا بطلت ، وسهواً لزمه الرجوع ليركع ثم يسجد .



ثانيا : واجبات الصلاة ، وهي ثمانية ، كما يلي :


1- التكبير لغير الإحرام .


2- قول : سمع الله لمن حمده للإمام وللمنفرد .


3- قول : ربنا ولك الحمد .


4- قول : سبحان ربي العظيم مرة في الركوع .


5- قول : سبحان ربي الأعلى مرة في السجود .


6- قول : رب اغفر لي بين السجدتين .


7- التشهد الأول .


8- الجلوس للتشهد الأول .



ثالثا : سنن الصلاة القولية ، وهي إحدى عشرة سنة ، كما يلي :


1- قوله بعد تكبيرة الإحرام : " سبحانك اللهم وبحمدك ، وتبارك اسمك ، وتعالى جدك ، ولا إله غيرك " ويسمى دعاء الاستفتاح .


2- التعوذ .


3- البسملة .


4- قول : آمين .


5- قراءة السورة بعد الفاتحة .


6- الجهر بالقراءة للإمام .


7- قول غير المأموم بعد التحميد : ملء السماوات ، وملء الأرض ، وملء ما شئت من شيء بعد . (والصحيح أنه سنة للمأموم أيضاً) .


8- ما زاد على المرة في تسبيح الركوع . أي التسبيحة الثانية والثالثة وما زاد على ذلك .


9- ما زاد على المرة في تسبيح السجود .


10- ما زاد على المرة في قوله بين السجدتين : رب اغفر لي .


11- الصلاة في التشهد الأخير على آله عليهم السلام ، والبركة عليه وعليهم ، والدعاء بعده .



رابعا : سنن الأفعال ، وتسمى الهيئات :


1- رفع اليدين مع تكبيرة الإحرام .


2- وعند الركوع .


3- وعند الرفع منه .


4- وحطهما عقب ذلك .


5- وضع اليمين على الشمال .


6- نظره إلى موضع سجوده .


7- تفرقته بين قدميه قائما .


8- قبض ركبتيه بيديه مفرجتي الأصابع في ركوعه ، ومد ظهره فيه ، وجعل رأسه حياله .


9- تمكين أعضاء السجود من الأرض ومباشرتها لمحل السجود سوى الركبتين فيكره .


10- مجافاة عضديه عن جنبيه ، وبطنه عن فخذيه ، وفخذيه عن ساقيه ، وتفريقه بين ركبتيه ، وإقامة قدميه ، وجعل بطون أصابعهما على الأرض مفرقةً ، ووضع يديه حذو منكبيه مبسوطةً مضمومةَ الأصابع .


11- الافتراش في الجلوس بين السجدتين ، وفي التشهد الأول ، والتورك في الثاني .


12- وضع اليدين على الفخذين مبسوطتين مضمومتي الأصابع بين السجدتين ، وكذا في التشهد إلا أنه يقبض من اليمنى الخنصر والبنصر ويحلق إبهامها مع الوسطى ويشير بسبابتها عند ذكر الله .


13- التفاته يمينا وشمالا في تسليمه .


وفي بعض هذه الأمور خلاف بين الفقهاء ، فقد يكون الفعل الواجب عند أحدهم مسنونا عند الآخر ، وهذا مبسوط في كتب الفقه .


والله أعلم .

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ


Comments